151

سعودی کردار: پردے کے پیچھے کیا ہو رہا ہے؟

نواز شریف سرگرم سیاست سے کنارہ کشی یہاں تک کہ ایک مرتبہ پھر ملک سے باہر جانے پر آمادہ ہیں بشرطیکہ کوئی ملکی عدالت انہیں کوئی سزانہ سنائے: ذرائع

لاہور: (تجزیہ: سعودی عرب نے پاکستان کی طاقتور ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی حکمران شریف خاندان کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے مداخلت اور اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے کردار ادا کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے، اسی سلسلے میں سابق وزیر اعظم نواز شرف متوقع طور پر جلد سعودی عرب جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف سرگرم سیاست سے کنارہ کشی یہاں تک کہ ایک مرتبہ پھر ملک سے باہر جانے پر آمادہ ہیں بشرطیکہ کوئی ملکی عدالت انہیں کوئی سزانہ سنائے۔ واضح رہے کہ پاکستانی عدالتوں میں نواز شریف کیخلاف کرپشن کے متعدد مقدمات زیر سماعت ہیں، ان میں سے چند میں ان پر فرد جرم بھی عائد ہوچکی ہے، اس کے ساتھ ہی نواز شریف کی کوشش ہوگی کہ ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کا سربراہ بنا دیا جائے جو اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ حال ہی میں نواز شریف کو جو تین مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں نا اہل قرار دے چکی ہے۔ نواز شریف پر الزام ہے کہ انہوں ایک بیرونی ملک کا ورک پرمٹ تو حاصل کیا لیکن قانون کے مطابق اسے ظاہر نہیں کیا، اس طرح عدالت عظمیٰ کی جانب سے نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے اقدام کی بنیاد تکنیکی ہے ،لیکن یہ واحد سبب نہیں ہے ، اس لیے کہ نہ صرف نواز شریف بلکہ ان کے خاندان بالخصو ص بچوں کے خلاف بھی کرپشن کے متعدد مقدمات شروع ہو چکے ہیں۔

ان تمام باتوں کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ نواز شریف نے مقابلہ کیے بغیر اپنی شکست تسلیم کر لی ہو، وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے باجود نواز شریف کی تشہیری ٹیم فوج پر مستقل یہ الزام عائد کر رہی ہے کہ وہ اس وقت عدلیہ کی پشت پناہی کر رہی ہے، نواز شریف کی تشہیری ٹیم کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عدلیہ نے فوج کی ایما پر ہی ان کے خلاف کارروائیاں کی ہیں، بہر صورت یہ بات واضح ہے کہ پاکستان میں 3 مرتبہ سیاسی حکومتوں کی معزولی اور فوج کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے باعث سیاسی قیادت اور فوج کے مابین جو کشیدگی پیدا ہوئی وہ نہ صرف یہ کہ اب بھی موجود ہے بلکہ اس میں خاصا اضافہ ہوچکا ہے۔ پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ تصدیق کر چکے ہیں کہ انہوں نے جمعرات کو سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی تھی جو چند گھنٹوں تک جاری رہی تھی۔

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل جنرل (ر) جنجوعہ کا تقرر کرتے ہوئے یہ تاثر دیا گیا تھا کہ ان کا بنیادی فرض سیاسی حکومت اور فوج کے درمیان رابطے برقرار رکھنا ہے۔ نواز شریف اور جنرل ( ر) جنجوعہ کی اس ملاقات سے متعلق ذرائع ابلاغ میں یہ پیش گوئی یا دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے نواز شریف کو یہ پیشکش کی ہے کہ اگر وہ خفیہ سمجھوتے ( بیک رو م ڈیل) کرلیں تو اس وقت وہ جن مشکلات میں گرفتار ہیں ان سے نکل سکتے ہیں، ہر چند کہ جنرل (ر) جنجوعہ نے ان رپورٹوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی تاہم انہوں نے بتایا کہ ” میں کسی ایسی سازش میں کسی بھی حیثیت سے شریک نہیں ہوسکتا جو میرے عظیم ملک پاکستان کے خلاف ہو”۔ یہ بات محل نظر رہنی چاہیے کہ سعودی عرب ماضی میں بھی پاکستانی فوج اور نواز شریف کے درمیان “امن معاہدہ” کرانے میں کلیدی کردار ادا کرچکا ہے۔ 1999 میں بھی جب اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم نوازشریف کو اقتدار سے معزول کر کے گرفتار کر لیا تھا ایسی ہی صورتحال رونماہوئی تھی، اس وقت بھی نواز شریف نے سعودی عرب کے ساتھ مراسم کے باعث اس کی جانب سے مداخلت کو بخوشی قبول کرلیا تھا، اس انتظام کی بدولت ہی نواز شریف کو عدالت کی جانب سے سزا اور قید سے نجات ملی اور وہ تقریباً 8 برس تک سعودی عرب میں جلاوطن رہے۔ اس وقت بھی جب کہ نواز شریف سعودی عرب یا برطانیہ میں رہائش اختیار کرسکتے ہیں۔

سعودی ذرائع یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ ایسے کسی بھی سمجھوتے کیلئے انہیں پاکستان کی طاقتور فوج کی جانب سے رضامندی کا انتظار ہے، ذرائع کے مطابق سعودی اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں نے واضح کیا ہے کہ جب تک پاکستانی فوج اپنی آمادگی اور اطمینان کا واضح طور پر اظہار نہ کردے اس وقت تک نواز شریف کے معاملے میں کوئی ڈیل نہیں ہوسکتی، اس بات سے سب ہی واقف ہیں کہ پاکستان کی فوج اور سعودی عرب کے درمیان ہمیشہ گرمجوش تعلقات رہے ہیں، یہی نہیں بلکہ ولی عہد شہزادہ سلمان کے ساتھ بھی پاکستانی فوج کے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف جنھیں پاکستانی فوج کا حلیف سمجھا جاتا ہے بدھ کو سعودی عرب پہنچ چکے ہیں، انہیں لے جانے کیلئے سعودی عرب نے بطور خاص اپنا طیارہ بھیجا تھا، مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق شہباز شریف نے جو ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ بھی ہیں، ریاض روانگی سے قبل سعودی سفیر اور متعدد دیگر غیر ملکی سفارتکاروں سے ملاقات کی تھی۔

شریف فیملی کے قریبی حلقوں نے انکشاف کیا ہے کہ شہباز شریف سے متعلق موقف میں نرمی کیلئے نواز شریف پر دباؤ بھی ڈالا گیا۔ ان حلقوں کے مطابق نوازشریف کی جانب سے اپنے بھائی شہباز شریف کو جانشین نامزد کرنے میں تامل، اس کے بجائے فوج کی مخالف اپنی صاحبزادی مریم نواز کی طرفداری ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ ملک حکمرانی کے بحران کا شکار ہوا بلکہ نون لیگ کے اندرونی حلقوں میں بھی ماحول خراب ہوا۔ان تمام باتوں کے باوجود حال ہی میں نواز شریف نے جب یہ کہا کہ شہباز شریف آئندہ وزیر اعظم ہوسکتے ہیں تو ان کے اس بیان کو زیادہ عملیت پسندانہ سمجھا گیا، اس کے ساتھ ہی سیاسی حلقوں نے کہا کہ یہ اقدام جمہوریت کے تسلسل اور فوج کے ساتھ تعلقات میں بہتری میں بہت مددگار ہوسکتاہے ، اس کے باوجود نواز شریف کے بعض ساتھی جو اس وقت وزیر بھی ہیں “زیادہ بہادری” کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وزیر داخلہ احسن اقبال نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ” ہمیں کسی ڈیل کی ضرورت نہیں ہے”۔ نواز شریف اعلان کر چکے ہیں کہ 2018 کے الیکشن کے بعد شہباز شریف نون لیگ کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہوں گے ، انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ پاکستان کے عوام آئندہ الیکشن میں کسی جنرل کی کرشمہ سازی کی وجہ سے نہیں بلکہ ہماری کارکردگی کے باعث ہمیں ووٹ دے کر کامیاب بنائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں