112

بلوچستان میں دہشتگردی، پراکسی قوتوں کے عزائم کیا ہیں؟

کرسمس پر گرجا گھر کو ٹارگٹ کرنے کا مقصد قومی وحدت پر حملہ ہے، سی پیک اور گوادر کا فعال کردار بلوچستان کی محرومی کے خاتمہ کی ضمانت ہے۔

لاہور: (تجزیہ) پاکستان کے سب سے حساس صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک گرجا گھر پر خود کش حملہ کے نتیجہ میں 9 افراد کے جاں بحق ہونے اور 57 کے زخمی ہونے کے المناک واقعہ نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ دہشتگردی کیخلاف ممکنہ اقدامات، انتہا پسندی اور شدت پسندی کے خاتمہ کیلئے موثر اقدامات کے بعد یہ کون ہیں جو کبھی ریاستی اداروں کے ذمہ داران کو ٹارگٹ کرتے ہیں اور کبھی مختلف طبقات اور اہم مقامات پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ انہیں کس کی آشیرباد حاصل ہے اور ان کے پاس ایجنڈا کیا ہے۔ ان کے ڈانڈے کہاں جا ملتے ہیں۔ حقیقت حال یہی ہے کہ پاکستان کے خلاف ملک دشمن قوتوں خصوصاً ہندوستان نے افغانستان کیساتھ ملکر بلوچستان کی سرزمین کو پراکسی وار کا میدان بنا رکھا ہے۔

وجوہات بڑی واضح اور صاف ہیں کہ پاکستان کی معاشی ترقی اور خطہ میں بالادستی کا دروازہ اب بلوچستان سے ہو کر گزرنا ہے اور اکنامک کوریڈور اور گوادر کی بندرگاہ نے پاکستان دشمن اتحاد کو ہمارے خلاف سرگرم عمل کر رکھا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان جیسے پسماندہ ترین صوبہ میں معاشی سرگرمیوں اور ترقی کے نئے ایجنڈے کے ذریعہ محرومی کا خاتمہ ہو گیا تو پاکستان کی قومی وحدت فیڈریشن کی مضبوطی اور معاشی امکانات بھرپور انداز میں خطے میں سامنے آ جائینگے اور پھر پاکستان جو پہلے ہی قومی طور پر ناقابل تسخیر بن چکا ہے، جس نے ہندوستان اور پاکستان دشمن قوتوں کے مقابلہ میں ایک شاندار اور مضبوط نیو کلیئر پروگرام کے ذریعہ اپنے خلاف ہونیوالی کسی بھی جارحیت کیخلاف ڈیٹرنس قائم کر رکھا ہے۔ اگر اس وقت اسے دہشتگردی اور تخریب کاری اور بدامنی کے ذریعہ نہ الجھایا گیا تو پھر پاکستان معاشی میدان میں بھی ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھرے گا اور بھارت کی علاقائی چودھراہٹ کا خواب چکنا چور ہو جائے گا اور علاقہ میں پاکستان کا سکہ چلے گا۔

یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے سدباب کے بعد را اور این ڈی ایس نے بلوچستان کے امن کو ٹارگٹ کیا اور بلوچستان میں کبھی مزاروں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے اور کبھی امام بارگاہوں کو اور کبھی زائرین کو نشانہ بنایا جاتاہے۔ دراصل اس صوبہ میں شیعہ کمیونٹی کے علاقوں میں وسیع پیمانے پر خون ریزی کا کھیل کھیل کر پاکستان بھر میں مذہبی منافرت اور شیعہ سنی مسلک کے درمیان ختم ہونیوالی جنگ کو دوبارہ ہوا دینے کی کوشش کی جاتی رہی لیکن عوام نے مذہبی منافرت کی بنیاد پر باہم تقسیم ہونے سے انکار کیا اور دشمن کو منہ کی کھانا پڑی۔ بنیادی طور پر یہی وہ ناکامی ہے جس سے دشمن تلملا کررہ گیا ، اس نے ایک ایسے حصہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے جس کی حب الوطنی پر کوئی سوال نہیں جنہوں نے باوجود اقلیت ہونے کے پاکستان میں دہشتگردی اور بدامنی کیخلاف بہت سی قربانیاں دی ہیں جیسے دیگر پاکستانیوں نے دہشتگردی کیخلاف قربانیاں پیش کی ہیں۔ پاکستان کے عوام اب دہشتگردی کا مقابلہ کرتے ہوئے اتنے سخت جان بن چکے ہیں ،وہ ان سازشوں کو سمجھتے ہیں۔ اب کرسمس کی آمد کے موقع پر چرچ کو ٹارگٹ کر کے دنیا بھرمیں پاکستان کو بدنام اور ملک کے اندر مسیح برادری کو غیر محفوظ ہونے کا پیغام دیا گیا ، چرچ پر حملے کا واقعہ پہلی دفعہ نہیں ہو رہا، اس طرح کے واقعات پہلے بھی پشاور اور لاہور میں ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی مسیحی برادری نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پشاور، لاہور سمیت مختلف واقعات میں قربانیوں کی تاریخ رقم کی اور پاکستان کی بقاو سلامتی اور استحکام کیلئے دعاگو نظر آئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں