54

نیب ریفرنسز میں مانیٹرنگ جج مقرر کر کے سر پر تلوار لٹکا دی گئی: نواز شریف

ایک اقامے کا فیصلہ آیا جسے پاکستان نے قبول نہیں کیا، کرپشن یا خردبرد کا فیصلہ دیتے تو شرم کے مارے سر نہ اٹھاتا، اقامہ آپکے قانون میں نہیں تھا، بلیک لاء ڈکشنری کی ضرورت پڑی: نوازشریف کی پنجاب ہاؤس میں پارٹی رہنماؤں سے گفتگو

اسلام آباد: نوازشریف نے پنجاب ہاؤس میں پارٹی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا مانیٹرنگ جج مقرر کر کے سر پر تلوار لٹکا دی گئی، نیب سے سزا دلوا کر جج نے خود سرخرو ہونا ہے تو یہ زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا غلط مثال کیوں قائم کی جا رہی ہے؟، ایک اقامے کا فیصلہ آیا جسے پاکستان نے قبول نہیں کیا، کرپشن یا خردبرد کا فیصلہ دیتے تو شرم کے مارے سر نہ اٹھاتا۔ سابق وزیراعظم نے کہا اقامہ آپکے قانون میں نہیں تھا، بلیک لاء ڈکشنری کی ضرورت پڑی، نہ لی گئی تنخواہ کو بھی اثاثہ بنا دیا گیا۔

قبل ازیں احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا عمران خان اور جہانگیر ترین کے فیصلے میں بھی مجھے نا اہل کیا جائیگا، پارلیمنٹ کے سوا کسی ادارے کو آئین میں ترمیم کا اختیار نہیں، ملک کا وزیراعظم رہا لیکن آج کس طرح عدالت میں بٹھا دیا گیا۔ان کا کہنا تھا 2018 میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ 2017 میں ہی پورا کر دیا، کہیں پھر بھی یہ نہ کہہ دیا جائے کہ میں صادق اور امین نہیں رہا۔ احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر قانونی ٹیم سے مشاورت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف نے جاری مقدمات اور لندن روانگی سے متعلق بات چیت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے کلثوم نواز سے ملنے لندن جانا ہے، ایک نرس بھی ساتھ لے کر جانی ہے۔ انہوں نے قانونی ٹیم کو ہدایت کہ ہائیکورٹ ریفرنسز یکجا کرنے کے معاملے پر جو فیصلہ بھی دے، استثنی کی درخواستوں پر فیصلہ لیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں